نئی دہلی،29/اگست (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سنیل گور نے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کی ضمانت کی درخواست اپنے ریٹائرمنٹ سے دو دن پہلے مسترد کر دی تھی۔انہیں اب پریوینسن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے لئے اپیلٹ ٹریبونل کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔اس ٹریبونل میں ایک صدر اور چار ممبر ہوتے ہیں جس کا ہیڈکوارٹر نئی دہلی میں ہے۔گور نے آئی این ایکس میڈیا معاملے میں سابق وزیر خزانہ کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ان کی سی بی آئی کی طرف سے گرفتاری کا راستہ صاف ہوگیا۔ہائی کورٹ کے جج نے 23 اگست کو پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں پہلی نظر میں حقائق کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ چدمبرم ہی اہم سازش کرنے والے تھے۔انہوں نے اس معاملے کو منی لانڈرنگ کا ایک مخصوص کیس قرار دیا اور کہا کہ ضمانت دینے سے معاشرے میں غلط پیغام جائے گا۔ہائی پروفائل آئی این ایکس میڈیا معاملے میں پی چدمبرم کمپنی کو غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی منظوری دینے کے ملزم ہیں اور فی الحال اس معاملے کی سی بی آئی اور ای ڈی کی طرف سے تحقیقات چل رہی ہے۔جسٹس گورنے کئی دیگر ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کی ہے جس میں کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ کے بھانجے رتل پوری شامل ہیں۔پوری ایک بینک فراڈ کیس میں ملزم ہیں۔گور نے پوری کی بھی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔گورپریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے اپیلٹ ٹریبونل کے بڑے عہدے کی ذمہ داری 23 ستمبر سے سنبھالیں گے۔گورنے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں 1984 میں اپنے کیریئر کی شروعات کی اور دہلی عدالتی خدمات سے 1995 میں منسلک ہوئے۔اپریل 2008 میں وہ ہائی کورٹ میں مقرر کئے گئے اور اپریل 2012 میں مستقل جج بنائے گئے۔